الہ آباد ، 16؍جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی) عدالت میں سماعت سے پہلے ہی اُترپردیش کے الہ آباد میں ایک قدیم تاریخی مسجد کو شہید کرنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق آج پیر کو ہی عدالت میں سماعت ہونی تھی مگر اُس سے پہلے ہی مسجد پر بلڈوزر چڑھادیا گیا۔
واردات الہ آباد کے ہنڈیا میں پیش آئی ہے جہاں روڈ کو وسیع کرنے کے نام پر شیر شاہ سوری کے وقت کی بنی شاہی مسجد کوشہید کردیاگیا ہے، امام مسجد بابل حسین کے مطابق ’نچلی عدالت میں ۱۶؍ جنوری کو معاملے کی سماعت ہونی تھی۔
بتایا گیا ہے کہ ہنڈیا تحصیل میں گرانٹ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) کو وسیع کرنے کا کام کیاجارہا ہے، اس روڈ پر سیدآباد بازار میں شیر شاہ سوری کے زمانے کی مسجد تھی جسے غیر قانونی قرار دیاجارہا تھا۔ اس مسجد کو سخت سیکوریٹی اور لوک نرمان شعبہ کے افسران کی موجودگی میں ۹؍ جنوری ۲۰۲۳ کو بلڈوزر کے ذریعے شہید کردیاگیا۔ کہا جارہا ہے کہ شاہی مسجد کو شہید کرنے سے قبل افسران نے مسجد انتظامیہ کو نوٹس دیا تھا جبکہ مسجد کو بچانے کےلیے مقامی لوگوں نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔
ہنڈیا کے ایس ڈی ایم رمیش چندر موریہ نے کہنا ہے کہ ’’لوک نرمان کی زمین پر مسجد واقع تھی، ہائی کورٹ اور دیوانی کورٹ سے انہیں کوئی ریلیف نہیں ملی، مسجد کی انتظامیہ کمیٹی سے ہم نے دو تین رائونڈ بات چیت کی اس کے مطابق انتظامیہ کمیٹی کے لوگوں کے ذریعے مسجد کو ہٹانے کا کام کیاجارہا ہے‘‘۔ مسجد کے امام محمد بابل حسین نےبتایاکہ ہم ہائی کورٹ گئے تھے لیکن ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ معاملہ سول کورٹ کا ہے اس کے بعد ہم سول کورٹ گئے وہاں اسٹے خارج کردیاگیا، اس کے بعد لوور کورٹ میں گئے جہاں سماعت ہونی تھی، اسی درمیان ۹ جنوری ۲۰۲۳ کو انتظامیہ نے مسجد کو بلڈوزر چلا کر شہید کردیا۔ مسجد کو بلڈوزر سے شہید کیے جانے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔
ٹوئٹر پر وائرل ویڈیو پر کال رردا نامی یوزر نے لکھا کہ یوگی بابا کے راجیہ میں، سیدآباد پریاگ راج مسجد پر پاکستان کا جھنڈا لہرانے پر بابا نے مسجد ہی اکھاڑ دی‘‘۔ کنشکا نام کے یوزرنے لکھا کہ یہ کورٹ کے ذریعے حقیقی سیکولرازم ہے، عدالت نے پریاگ راج کے مسلمانوں کو ’’حرام‘‘ سے بچایا، غیر قانونی طور پر مسجد کی تعمیر کو اسلام میں ’حرام‘ قرار دیاگیا ہے۔ ونرم ترپاٹھی نے لکھا کہ جے ہو یوگی بابا کی، حالانکہ ہائی کورٹ کا حکم ہے ،لیکن یہ یوگی بابا کا دور اقتدار ہے، جو ایسے احکامات کو پورا کرتے ہیں۔